بنگلورو،25؍فروری(ایس او نیوز) بروہت بنگلورو مہا نگرا پالیکے (بی بی ایم پی) نے بڑے ہی جوش و خروش کے ساتھ نیا بجٹ پیش کر دیا ہے جس میں پچھلے سال کے مقابلہ میں تھوڑا سا اضافہ بھی ہوا ہے مگر کونسل میں حزب اختلاف کے قائدپدمانابھا ریڈی نے یہ الزام لگا یاہے کہ بلدیہ اپنے پچھلے سال کے بجٹ منصوبوں کو نافذ کرنے ہی میں ناکام رہا ہے جب کہ اس نے مزید بڑے بڑے منصوبوں کا اعلان کیا ہے ، بلکہ یہ بھی الزام لگایا جا رہا ہے دو سال قبل کے اس کے بجٹ میں منظور کردہ مختلف منصوبوں میں سے بھی کئی منصوبوں پر ابھی عملدرآمد نہیں ہو پایاہے ذرائع کا کہنا ہے کہ بجٹ کی پیشی کے وقت پایا جانے والا جوش و خروش ان منصوبوں کے نفاذ کے موقع پر نہیں دیکھا جاتا۔بعض دیگر ذرائع کا کہنا ہے کہ بی بی ایم پی افسران اور عوامی نمائندوں کے درمیان مناسب رابطہ کا فقدان بھی بجٹ منصوبوں کی ناکامی اور ان کے نفاذ میں تاخیرکا ایک اہم سبب ہوتا ہے، اس کے علاوہ بھی کئی وجوہات ہیں جن کی بنا پربی بی ایم پی کے بجٹ منصوبوں کا نفاذ کھٹائی میں پڑا ہوا ہے۔یہ الزامات بھی سننے میں آرہے ہیں کہ پچھلے سال کے بجٹ منصوبوں کے نفاذ میں افسران مکمل طور پر ناکام ہوئے ہیں، بجٹ کے ساٹھ فیصد سے زیادہ منصوبے سرد خانہ میں پڑے ہوئے ہیں، کانگریس قیادت کی بی بی ایم پی انتظامیہ صرف بجٹ کی تیاری میں دلچسپی دکھا تی ہے اور اس کے نفاذ کی کوئی فکر نہیں کی جا تی۔بجٹ منصوبوں کے نفاد کے سلسلہ میں پچھلے سال پیش آنے والی کئی رکاوٹوں کا ذکر ضرور کیا جارہا ہے لیکن یہ بات بھی قابل غور ہے کہ بی بی ایم پی کی طرف سے بجٹ منصوبوں کے نفاذ میں ناکامی یہ صرف جاریہ سال کا معاملہ نہیں ہے، پچھلے پانچ سالوں کا اگر جائزہ لیا جائے تو اس کا اندازہ ہوجاتا ہے کہ ہر سال بی بی ایم پی کی طرف سے طے کردہ بجٹ میں سے عموماً آدھے سے بھی کم کام انجام پاتا رہا ہے، صرف سال 2015-16 میں بی بی ایم پی کے طے شدہ بجٹ منصوبوں کی رقم میں سے 87.36 فیصد رقم استعمال ہو پائی تھی، اس سال اتفاق سے بی بی ایم پی میں منتخب نمائندے نہیں بلکہ اڈمنسٹریٹر کا راج تھا۔پچھلے بجٹ میں منظور کردہ نامکمل منصوبوں میں سے، بزرگ شہریوں کے لئے دوپہر کا گرم کھانا، شہر کی حدود میں دو لاکھ درخت لگائے جانے کا کام، 300 کلو میٹر کانکریٹ راستوں کی تعمیر، منروا سرکل سے ٹاؤن ہال تک فولادی پل کی تعمیر، دس کروڑ روپیوں کی لاگت سے جانسن مارکیٹ کی ترقی، ایس سی ایس ٹی اور دیگر پسماندہ طبقات کے لئے ’’اپنا گھر منصوبہ‘‘، تین کروڑ روپئے کا سندھیا کٹیر منصوبہ اور کمپاپور میں کیمپے گوڈا کی سمادھی کی ترقی وغیرہ شامل ہیں۔